مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال میں شدت آنے کے باعث عالمی فضائی آپریشن ایک بار پھر شدید متاثر ہو گیا ہے۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سمیت کراچی، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد اور پشاور سے خلیجی ممالک جانے اور آنے والی پروازوں کا شیڈول درہم برہم ہو گیا۔
فلائٹ آپریشن سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق دبئی، ابو ظہبی، بحرین، شارجہ، دوحہ، ریاض، جدہ اور مدینہ منورہ جانے اور آنے والی مجموعی طور پر 65 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ 35 پروازیں تین سے سات گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث سیکڑوں عمرہ زائرین اور ہزاروں مسافر مختلف ائیرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے۔
ذرائع کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے فضائی حدود کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر سے مشرق وسطیٰ جانے والی متعدد پروازیں یا تو منسوخ ہو گئیں یا آدھے راستے سے واپس لوٹ آئیں۔
ایئر لائنز نے ہنگامی حالات کے پیش نظر اپنی پروازوں کو ری شیڈول کرنا شروع کر دیا ہے، تاہم اس عمل کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب جیٹ فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ایئر لائنز کی مالی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق جنگ سے قبل دبئی سے روزانہ 1200 سے زائد، دوحہ سے 700، بحرین سے 200، کویت سے 290، ریاض سے 675، دمام سے 250، ابو ظہبی سے 485 اور شارجہ سے تقریباً 300 پروازیں آپریٹ ہو رہی تھیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں سات سے آٹھ اہم ایئرپورٹس مکمل یا جزوی طور پر بند ہو چکے ہیں، جہاں اب صرف 20 سے 30 فیصد پروازیں ہی چل رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مسافروں کو ہوٹلوں میں قیام دینے کے بجائے گھروں کو واپس بھیجا جا رہا ہے اور ان کی ٹکٹیں بعد ازاں ان کی سہولت کے مطابق ری شیڈول کی جا رہی ہیں۔
پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے مطابق ہنگامی حالات کے باوجود تمام ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز کو لینڈنگ، ٹیک آف اور پارکنگ کی سہولیات بین الاقوامی قوانین کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ وہ فضائی آپریشن کو بحال رکھنے کے لیے مسلسل شیڈول میں رد و بدل کر رہی ہیں تاکہ مسافروں کو ممکنہ حد تک سہولت فراہم کی جا سکے۔

