ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے


ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی میں ایک مہنگے امریکی طیارے کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مبینہ حملے میں تبریز پیٹروکیمیکل کمپنی کے ایک یونٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ریسکیو اور آپریشنل ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، تاہم کسی خطرناک یا زہریلے مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔

دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب میں واقع ایک امریکی زیرِ استعمال ایئر بیس پر میزائل اور ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 700 ملین ڈالر مالیت کے جدید امریکی طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر کی گئی، جہاں امریکی افواج بھی تعینات ہیں۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے میں 6 بیلسٹک میزائل اور 29 ڈرونز استعمال کیے گئے۔

مزید دعوؤں میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کے ذریعے بڑے حملے کیے اور کویت میں 6 امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

علاقائی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ بڑے تصادم کا باعث بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Disclaimer: یہ خبر سرکاری اور میڈیا ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہے، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *